آگ پر چل کے دکھایا تو کبھی پانی پر
گولیاں کھائی ہیں فنکار نے پیشانی پر
کون تاریخ میں احوال ہمارا لکّھے
ہم تو ٹھوکر بھی لگاتے نہیں سلطانی پر
کیا سمجھتا تھا کہ مل جائے گا ثانی اس کا
میں تو حیران ہوں آئینے کی حیرانی پر
گدگداتا ہے شگوفوں کو وہ پوشیدہ ہات
جس نے کانٹوں کو لگایا ہے نگہبانی پر
وہ مجھے دولتِ کونین عطا کرتا ہے
اس طرف ناز مجھے بے سر و سامانی پر
عمر کے آٹھویں عشرے میں کرو سجدۂ شکر
آمدِ طبع مظفر جو ہے طُغیانی پر
